Category:-
Faraz Ghazals

فراز احمد فراز اندھیرا ہے تہمت شام پر نہیں


اندھیرا ہے تہمت شام پر نہیں
 وہ میرا آتشیں رخ بام پر نہیں


 بہت سے ہمنوایانِ چمن نے
 نظر دانے پر رکھیں دام پر نہیں


 ہمیشہ سے وفا کارِ زیاں ہے
 مگر اپنی نظر انجام پر نہیں


 کبھی ایسی نہ تھی لیلائے فرقت
 کوئی تارہ قبائے شام پر نہیں


 ہماری تشنگی کا حال دیکھو
 نظر ساقی پہ ہے جام پر نہیں


 محبت زندگی بھر کا سفر ہے
 کوئی منزل یہاں دو گام پر نہیں


 یہ دل مائل ہے ایک سادہ ادا پر
 کسی مہوش، کسی گلفام پر نہیں


 خدا وہ دن نہ دکھلائے کہ دیکھیں
 یہ بستی اب ہمارے نام پر نہیں


 دکانِ مے فروشاں میں مقدم

شکست دل،شکست جام پر نہیں